پشاور( بلو چستان خبر)چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں ایک افسوسناک واقعے میں معروف مذہبی شخصیت، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مولانا محمد ادریس دارالعلوم اتمانزئی میں دورہ حدیث کے درس کے لیے جا رہے تھے۔ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گئے۔ واقعے میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی نشاندہی کی کوشش جاری ہے۔ ابتدائی طور پر واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا جا رہا ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک و قوم کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے شہید کے درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اسے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔مولانا محمد ادریس کی نماز جنازہ آج ان کے آبائی گاؤں ترنگزئی میں ادا کی جائے گی، جہاں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
معروف عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی قاتلانہ حملے میں شہید،صدر وزیراعظم کی واقعہ کی مذ مت
2 دن قبل