واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک عالمی تجارتی گزرگاہ ہے جسے کسی بھی ملک کے مکمل کنٹرول میں نہیں دیا جا سکتا، اور اس صورتحال کے حل کے لیے ایران کو فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جنگ نہیں۔ ان کے مطابق خطے میں تجارتی بحری راستوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے، اور امریکا ایسے اقدامات کو برداشت نہیں کرے گا جو عالمی تجارت کو خطرے میں ڈالیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ایران کی 7 تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ کشیدگی کے دوران 10 سویلین ملاحوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان کے مطابق امریکی فورسز خطے میں ڈرونز اور مشتبہ کشتیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گی۔مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف مبینہ ناکہ بندی اور کارروائیوں کے باعث اسے معاشی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ امریکی قیادت چاہتی ہے کہ مسئلے کا حل سفارتی راستے سے نکالا جائے۔انہوں نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں سفارتی کوششوں کے لیے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ اقدامات کا مقصد خطے میں استحکام اور عالمی توانائی سپلائی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
آبنائے ہرمز پر کشیدگی: امریکا کا ایران کو مذاکرات کی دعوت، فوجی کارروائیوں میں اضافے کا دعویٰ
1 دن قبل