پشاور( بلو چستان خبر)اینٹی کرپشن کورٹ خیبر پختونخوا نے سرکاری گندم اسکینڈل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 3 ملزمان کو مجموعی طور پر 7،7 سال قید اور 30 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزمان کو قومی خزانے کو پہنچنے والے کروڑوں روپے کے نقصان کی ریکوری کا بھی حکم دیا۔سماعت جج آصف رشید نے کی، جبکہ پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ اضاخیل گندم اسٹوریج سے 3 ہزار سے زائد بوریاں غائب کی گئیں، جس کے باعث قومی خزانے کو تقریباً 19 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔عدالت نے سزا پانے والوں میں اسٹوریج آفیسر محمد ارشد، اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر خالد خان اور سابق ملازم طلا محمد کو قصوروار قرار دیا۔ طلا محمد کو 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید 6 ماہ قید کی سزا ہوگی۔عدالت نے دو فوڈ انسپکٹرز عاطف اور جنید کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا، جبکہ کیس میں نامزد ایک ملزم تاحال مفرور ہے۔فیصلے کو حکام کی جانب سے کرپشن کے خلاف اہم کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
گندم اسکینڈل کیس: اینٹی کرپشن کورٹ کا بڑا فیصلہ، 3 ملزمان کو 7،7 سال قید اور جرمانہ
1 دن قبل