اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان سوورین ویلتھ فنڈ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت حکومت نے فنڈ کے اختیارات محدود کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ سوورین ویلتھ فنڈ کو ریاستی اداروں کی براہِ راست فروخت، قرض لینے اور اپنی آمدنی اپنے پاس رکھنے جیسے اختیارات حاصل نہیں ہوں گے۔ حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ پارلیمنٹ سے مطلوبہ قانونی ترامیم کی منظوری تک فنڈ کو فعال نہیں کیا جائے گا۔ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق پارلیمنٹ میں مجوزہ ترامیم بروقت پیش نہ ہو سکیں، جس پر آئی ایم ایف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانونی اصلاحات کے بغیر فنڈ کو فعال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔نئی مجوزہ تبدیلیوں کے تحت فنڈ کو ایک ہولڈنگ کمپنی کی حیثیت دی جائے گی، جو صرف سرکاری اداروں کے انتظام اور ان کی کارکردگی بہتر بنانے تک محدود رہے گی۔معاہدے کے مطابق فنڈ کسی بھی ریاستی اثاثے کی براہِ راست فروخت نہیں کر سکے گا، جبکہ نجکاری کا عمل بین الاقوامی معیار کے مطابق شفاف اور مسابقتی انداز میں مکمل کیا جائے گا۔مزید یہ کہ فنڈ کی آمدن حکومت کو منتقل کی جائے گی اور اسے قرض لینے یا مالی ضمانت دینے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ حکومت نے فنڈ کی قیادت اور مشاورتی ڈھانچے میں تقرریاں میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔دوسری جانب نجکاری کے عمل میں سست روی برقرار ہے، جہاں پی آئی اے سمیت محدود پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ بعض بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت بھی تاخیر کا شکار ہے۔
آئی ایم ایف کی سخت شرائط: سوورین ویلتھ فنڈ پر بڑی پابندیاں، نجکاری عمل شفاف بنانے پر اتفاق
2 دن قبل