Thursday, May 7, 2026
تازه‌ترین
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی آسٹریلیا کے رائل ملٹری کالج میں پاکستانی کیڈٹ کا اعزاز، ’بہترین غیر ملکی کیڈٹ‘ قرار بلوچستان قومی ترقی و استحکام کا بنیادی ستون ہے، پائیدار امن کے بغیر خوشحالی ممکن نہیں: صدر آصف زرداری مضاربہ فراڈ کیس کا فیصلہ: احتساب عدالت نے 7 ملزمان کو قید و 1.48 ارب روپے جرمانہ ہائی کورٹس کے رِٹ مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے،سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ شاہد آفریدی کا مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی شہادت پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار پشاور میں افسوسناک حادثہ: دو فلائنگ کوچز دیوار سے ٹکرا گئیں، 1 بچہ جاں بحق، 5 افراد زخمی گندم اسکینڈل کیس: اینٹی کرپشن کورٹ کا بڑا فیصلہ، 3 ملزمان کو 7،7 سال قید اور جرمانہ ٹرمپ کا حیران کن فیصلہ: آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل، ایران سے معاہدے کی امید آبنائے ہرمز پر کشیدگی: امریکا کا ایران کو مذاکرات کی دعوت، فوجی کارروائیوں میں اضافے کا دعویٰ ترکیے کا پہلا بین البراعظمی میزائل ’یلدرم حان‘ متعارف، دفاعی صلاحیت میں بڑا اضافہ ایران-امارات کشیدگی: حملوں کے الزامات اور سخت بیانات سے صورتحال مزید سنگین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی پاکستان نے مئی کے لیے ایل این جی اسپاٹ خریداری کے ٹینڈر جاری کر دیے ای سی سی کی اہم منظوری: وزیراعظم ہاؤسنگ پروگرام میں توسیع الیکٹرک بائیکس اسکیم میں پیش رفت سست، حکومت نے پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دے دی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی آسٹریلیا کے رائل ملٹری کالج میں پاکستانی کیڈٹ کا اعزاز، ’بہترین غیر ملکی کیڈٹ‘ قرار بلوچستان قومی ترقی و استحکام کا بنیادی ستون ہے، پائیدار امن کے بغیر خوشحالی ممکن نہیں: صدر آصف زرداری مضاربہ فراڈ کیس کا فیصلہ: احتساب عدالت نے 7 ملزمان کو قید و 1.48 ارب روپے جرمانہ ہائی کورٹس کے رِٹ مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے،سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ شاہد آفریدی کا مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی شہادت پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار پشاور میں افسوسناک حادثہ: دو فلائنگ کوچز دیوار سے ٹکرا گئیں، 1 بچہ جاں بحق، 5 افراد زخمی گندم اسکینڈل کیس: اینٹی کرپشن کورٹ کا بڑا فیصلہ، 3 ملزمان کو 7،7 سال قید اور جرمانہ ٹرمپ کا حیران کن فیصلہ: آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر معطل، ایران سے معاہدے کی امید آبنائے ہرمز پر کشیدگی: امریکا کا ایران کو مذاکرات کی دعوت، فوجی کارروائیوں میں اضافے کا دعویٰ ترکیے کا پہلا بین البراعظمی میزائل ’یلدرم حان‘ متعارف، دفاعی صلاحیت میں بڑا اضافہ ایران-امارات کشیدگی: حملوں کے الزامات اور سخت بیانات سے صورتحال مزید سنگین عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی پاکستان نے مئی کے لیے ایل این جی اسپاٹ خریداری کے ٹینڈر جاری کر دیے ای سی سی کی اہم منظوری: وزیراعظم ہاؤسنگ پروگرام میں توسیع الیکٹرک بائیکس اسکیم میں پیش رفت سست، حکومت نے پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دے دی

آئی ایم ایف کی سخت شرائط: سوورین ویلتھ فنڈ پر بڑی پابندیاں، نجکاری عمل شفاف بنانے پر اتفاق

2 دن قبل
آئی ایم ایف کی سخت شرائط: سوورین ویلتھ فنڈ پر بڑی پابندیاں، نجکاری عمل شفاف بنانے پر اتفاق

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک) پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان سوورین ویلتھ فنڈ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت حکومت نے فنڈ کے اختیارات محدود کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ سوورین ویلتھ فنڈ کو ریاستی اداروں کی براہِ راست فروخت، قرض لینے اور اپنی آمدنی اپنے پاس رکھنے جیسے اختیارات حاصل نہیں ہوں گے۔ حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ پارلیمنٹ سے مطلوبہ قانونی ترامیم کی منظوری تک فنڈ کو فعال نہیں کیا جائے گا۔ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق پارلیمنٹ میں مجوزہ ترامیم بروقت پیش نہ ہو سکیں، جس پر آئی ایم ایف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانونی اصلاحات کے بغیر فنڈ کو فعال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔نئی مجوزہ تبدیلیوں کے تحت فنڈ کو ایک ہولڈنگ کمپنی کی حیثیت دی جائے گی، جو صرف سرکاری اداروں کے انتظام اور ان کی کارکردگی بہتر بنانے تک محدود رہے گی۔معاہدے کے مطابق فنڈ کسی بھی ریاستی اثاثے کی براہِ راست فروخت نہیں کر سکے گا، جبکہ نجکاری کا عمل بین الاقوامی معیار کے مطابق شفاف اور مسابقتی انداز میں مکمل کیا جائے گا۔مزید یہ کہ فنڈ کی آمدن حکومت کو منتقل کی جائے گی اور اسے قرض لینے یا مالی ضمانت دینے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ حکومت نے فنڈ کی قیادت اور مشاورتی ڈھانچے میں تقرریاں میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔دوسری جانب نجکاری کے عمل میں سست روی برقرار ہے، جہاں پی آئی اے سمیت محدود پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ بعض بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت بھی تاخیر کا شکار ہے۔