اسلام آباد( کامرس ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کے غیر متوقع اضافے نے مالیاتی منڈیوں اور صنعتی شعبے میں غیر یقینی صورتحال کو جنم دیا ہے۔یہ فیصلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، عالمی معاشی دباؤ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں کیا گیا، تاہم ماہرین کے مطابق اس اقدام کے معاشی اثرات اور طویل المدتی اشارے ابھی واضح نہیں ہو سکے۔مرکزی بینک کا مؤقف ہے کہ آئندہ مہینوں میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، جس کے باعث سخت مالیاتی پالیسی ناگزیر تھی۔ تاہم ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان جیسے معاشی ڈھانچے میں شرح سود میں اس نوعیت کا بڑا اضافہ محض تکنیکی فیصلہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے پالیسی کے ممکنہ خطرات کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔اس پیش رفت کے بعد حکومتی مالیاتی پالیسی اور مرکزی بینک کے اقدامات کے درمیان ہم آہنگی پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔شرح سود میں اضافے کے فوراً بعد وزارت خزانہ نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز اور اجارہ سکوک کی نیلامی میں تمام بولیاں مسترد کر دیں، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ حکومت بلند شرح سود پر قرض لینے کے حق میں نہیں ہے۔
شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ، مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی اور پالیسی اختلافات نمایاں
2 دن قبل