کوئٹہ ( بلو چستان خبر) سیاسی و سماجی رہنما اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے بلوچستان اسمبلی کی عمارت کو مسمار کرنے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی عمارت 70 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور گورنر نواب اکبر بگٹی کے دور میں تعمیر کی گئی تھی، جبکہ اس کا افتتاح 1988 کے عام انتخابات کے بعد نواب اکبر بگٹی نے کیا تھا۔زبیدہ جلال کے مطابق یہ عمارت محض ایک سرکاری ڈھانچہ نہیں بلکہ بلوچی طرزِ تعمیر کی علامت اور بلوچ سماج کی شناخت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں اس کی ممکنہ مسماری سے متعلق خبریں زیر گردش ہیں، جو حیران کن ہیں کیونکہ عمارت اس حد تک مخدوش نہیں کہ اسے گرانا ضروری ہو۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی کی پرانی عمارت کو محفوظ رکھا گیا اور اسے مسمار نہیں کیا گیا، لہٰذا بلوچستان اسمبلی کی عمارت کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا جانا چاہیے۔زبیدہ جلال نے مطالبہ کیا کہ اس عمارت کو مسمار کرنے کے بجائے اسے میوزیم یا لائبریری میں تبدیل کیا جائے، تاکہ یہ بلوچستان کی تاریخ اور ثقافت کی عکاسی کرتی رہے۔انہوں نے تجویز دی کہ یہاں قائداعظم میوزیم یا جناح لائبریری کے طرز پر ڈیجیٹل لائبریری قائم کی جائے، جس سے بلوچستان کے نوجوان عالمی سطح پر تحقیق اور علمی رابطوں سے منسلک ہو سکیں۔
بلوچستان اسمبلی کی عمارت مسمار کرنے کی تجویز، زبیدہ جلال کا تحفظ اور میوزیم بنانے کا مطالبہ
2 دن قبل