ویلنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)نیوزی لینڈ کی عدالت نے 2019 میں کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر حملے میں 51 افراد کو شہید کرنے والے آسٹریلوی شدت پسند برینٹن ٹیرنٹ کی سزا کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مجرم کی جانب سے سزا ختم کرنے کی کوشش بے بنیاد ہے اور اس میں کوئی قانونی حیثیت نہیں پائی جاتی۔ عدالت کے مطابق ملزم نے جرم کا اعتراف اپنی مرضی سے کیا تھا اور اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔یاد رہے کہ 15 مارچ 2019 کو کرائسٹ چرچ میں واقع النور مسجد اور لن ووڈ اسلامک سینٹر پر فائرنگ کے واقعے میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت 51 افراد شہید ہوئے تھے، جسے نیوزی لینڈ کی تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ قرار دیا جاتا ہے۔ملزم کو اگست 2020 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں پیرول یا رہائی کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔ بعد ازاں اس نے اپیل میں مؤقف اختیار کیا کہ دورانِ قید اس کے حالات غیر انسانی تھے جس کی وجہ سے وہ درست فیصلے کے قابل نہیں تھا، تاہم عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا۔عدالت نے کہا کہ شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم ذہنی طور پر مکمل طور پر ذمہ دار تھا اور اس کے بیانات میں تضاد پایا گیا، جبکہ ماہرین اور جیل حکام کی رپورٹس بھی اس کے دعوے کی تائید نہیں کرتیں۔دوسری جانب متاثرہ خاندانوں اور زندہ بچ جانے والے افراد کے وکلا نے اس فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں دوبارہ مقدمے کے ذہنی دباؤ سے نجات ملی ہے۔
کرائسٹ چرچ حملہ کیس، برینٹن ٹیرنٹ کی سزا کے خلاف اپیل مسترد
4 دن قبل