اسلام آباد( بلو چستان خبر) وفاقی آئینی عدالت نے سرداری نظام اور شناختی دستاویزات کی تصدیق سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قبائلی سردار شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کی تصدیق کے مجاز نہیں ہیں۔جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کا اجراء قانون کے مطابق صرف مجاز سرکاری حکام ہی کر سکتے ہیں۔عدالت کے مطابق کسی بھی قبائلی سردار کو قانون سے ہٹ کر دستاویزات کی تصدیق کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ سرداری نظام 1976 میں ختم ہو چکا ہے اور اس کی قانونی حیثیت نہیں۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ علاقائی روایات کو عدالتی طور پر قانونی جواز نہیں دیا جا سکتا، اور صرف وہی شخص عدالت سے رجوع کرنے کا اہل ہے جو براہِ راست متاثرہ فریق ہو۔درخواست گزار غلام علی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ خروٹی قبیلے کا سردار ہے اور اس کے قبیلے کے افراد کے لیے دستاویزات کی تصدیق مشکل ہو جاتی ہے، تاہم عدالت نے ان کی اپیل کو ناقابلِ سماعت قرار دے دیا۔
قبائلی سردار شناختی دستاویزات کی تصدیق کے مجاز نہیں، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
3 دن قبل