کراچی (ہیلتھ ڈیسک) عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں منہ کے کینسر کی سب سے زیادہ شرح پاکستانی مردوں میں ریکارڈ کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک میں منہ کے کینسر کی شرح تقریباً 4 فیصد ہے جبکہ کراچی میں گٹکا، مین پوری اور ماوا کے بڑھتے استعمال کے باعث یہ شرح 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اندازوں کے مطابق شہر میں ہر پانچواں فرد ان نشہ آور اشیاء کا عادی ہے۔تفصیلات کے مطابق 2021 میں شرافی گوٹھ پولیس نے ایک کارروائی کے دوران محمد طاہر نامی شخص کو گرفتار کیا تھا، جس کے گھر سے گٹکا اور ماوا بنانے کا وسیع سامان برآمد ہوا تھا۔ برآمد شدہ اشیاء میں پیکنگ مشین، مکسنگ مشین، بڑی مقدار میں چھالیہ، تمباکو، چونا، کیمیکل اور تیار شدہ ماوا شامل تھا۔قانونی ماہرین کے مطابق گٹکا اور ماوا کے کاروبار سے متعلق کیسز میں صرف 5 فیصد ملزمان کو سزائیں ہو پاتی ہیں، جس کی بڑی وجوہات پولیس کی ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن بتائی جاتی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 2019 میں 10 ہزار سے زائد کیسز درج ہوئے جن میں سے نصف سے زیادہ اب بھی زیر التوا ہیں، جبکہ 2025 تک گرفتار 145 ڈیلرز میں سے کسی کو بھی سزا نہیں ہو سکی۔سندھ پولیس کے مطابق آئی جی سندھ کی زیر صدارت حالیہ اجلاس میں گٹکا اور ماوا کے خلاف کارروائیاں مزید تیز اور مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کراچی میں گٹکے کا بڑھتا رجحان،منہ کے کینسر کی شرح میں تشویشناک اضافہ
3 دن قبل