واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) وائٹ ہاؤس میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت شدید برہمی کا شکار ہو گئے جب ایک صحافی نے مبینہ حملہ آور کے آخری پیغام سے متعلق سوال اٹھایا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے حملہ آور کول ٹوماس ایلن کو شدت پسند، مذہب مخالف اور ذہنی مسائل کا شکار شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے بعد کی جانے والی گفتگو میں ان کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک رپورٹر نے مبینہ حملہ آور کے اس پیغام کا حوالہ دیا جو اس نے اپنی فیملی کو بھیجا تھا۔ اس پر صدر ٹرمپ نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ ایسا سوال اٹھایا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق حملہ آور نے اپنے پیغام میں الزام عائد کیا تھا کہ وہ ایسے افراد کو تحفظ نہیں دے سکتا جن پر سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔صدر ٹرمپ نے ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی ایسے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور کہا کہ وہ نہ تو ایسے جرائم میں ملوث ہیں اور نہ ہی ان سے متعلق الزامات درست ہیں۔گفتگو کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ کیا حملہ آور کے الفاظ کا اشارہ ان کی طرف تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے اس سوال کا براہ راست جواب دینے کے بجائے اپنی برہمی کا اظہار جاری رکھا۔رپورٹ کے مطابق اس واقعے نے امریکی سیاسی اور میڈیا حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جبکہ سیکیورٹی صورتحال پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس عشائیے میں فائرنگ پر صحافی کے سوال سے ڈونلڈ ٹرمپ برہم
1 ہفتے قبل