ذیابیطس اور موٹاپے کی ادویات سے ذہنی صحت میں بھی بہتری کا امکان، نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف
اسلام آباد( ہیلتھ ڈیسک)ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض ادویات نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔تحقیق کے مطابق اوزیمپک اور ویگووی جیسی ادویات، جو جی ایل پی-1 ریسیپٹر ایگونِسٹس کے گروپ سے تعلق رکھتی ہیں، ڈپریشن اور بے چینی جیسے نفسیاتی امراض کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔یونیورسٹی آف ایسٹرن فن لینڈ، سویڈن کی کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ اور آسٹریلیا کی گریفتھ یونیورسٹی کے محققین نے مشترکہ طور پر کیے گئے مطالعے میں سویڈن کے قومی ہیلتھ ریکارڈز کا تجزیہ کیا۔ اس تحقیق میں تقریباً ایک لاکھ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جن میں 20 ہزار سے زائد افراد نے 2009 سے 2022 کے دوران یہ ادویات استعمال کیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جب مریض سیمیگلوٹائڈ (اوزیمپک اور ویگووی کا بنیادی جز) استعمال کر رہے تھے تو ان میں نفسیاتی اسپتالوں میں داخلے اور طبی چھٹیوں کی شرح میں 42 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح ڈپریشن کے خطرے میں 44 فیصد اور اینزائٹی ڈس آرڈر میں 38 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق موٹاپا اور ذیابیطس اکثر ذہنی امراض سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ جسمانی بیماریوں کے بہتر علاج سے ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ان نتائج کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔