اسلام آباد( کامرس ڈیسک) یورپی انویسٹمنٹ بینک نے پاکستان کے بڑے ریکوڈک مائننگ منصوبے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اس کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے، تاہم اس کے بدلے یورپ کو اہم معدنی وسائل میں حصہ دینے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔یورپی انویسٹمنٹ بینک کے نمائندے مارکو ایرینا نے کہا کہ یورپ کو اپنی گرین اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے اہم معدنیات کی ضرورت ہے، اسی لیے ریکوڈک جیسے منصوبوں کے ساتھ مضبوط شراکت داری ضروری ہے۔ ان کے مطابق انجینئرنگ کے مسائل نسبتاً آسان ہوتے ہیں، جبکہ اصل چیلنجز پالیسی، ریگولیشن، معاشی استحکام اور کرنسی کے خطرات ہوتے ہیں۔دوسری جانب وزارتِ توانائی کے ڈائریکٹر جنرل معدنیات ڈاکٹر نواز احمد ورک نے 6 کھرب ڈالر کے معدنی ذخائر کے دعوے کو انتہائی مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار مستند تحقیقی بنیادوں پر مبنی نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بات یورپی یونین اور پاکستان بزنس فورم کے اجلاس میں خطاب کے دوران کہی۔انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے کے ترقیاتی مرحلے میں سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ پر ٹھیکیداروں کو تحفظات ہیں، تاہم حکومت پہلے ہی منصوبے کی آمدن کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے چکی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ڈاکٹر ورک کے مطابق وزارتِ توانائی اس معاملے پر وزارتِ خزانہ سے مشاورت کر رہی ہے اور توقع ہے کہ پیداوار شروع ہونے تک ان ٹیکسز کو مؤخر کر دیا جائے گا۔
یورپی انویسٹمنٹ بینک کی ریکوڈک منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی، معدنی وسائل میں شراکت کی شرط سامنے آگئی
4 دن قبل