اسلام آباد( ہیلتھ ڈیسک)ارجنٹینا سے جنوبی افریقہ جانے والے ایک لگژری کروز شپ میں خطرناک ہنٹا وائرس کے پھیلنے سے ہلاکتوں اور متاثرین کی اطلاعات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔بین الاقوامی ادارہ صحت کے مطابق جہاز پر اب تک ایک تصدیق شدہ اور پانچ مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 3 مسافروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ وائرس سے متاثر ایک 69 سالہ برطانوی شہری کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جسے جوہانسبرگ کے اسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔یہ واقعہ ایم وی ہونڈیس نامی کروز شپ پر پیش آیا، جو ایک طویل سفر پر گامزن تھا اور 20 مارچ کو ارجنٹینا کے شہر اوشایا سے روانہ ہوا تھا۔ جہاز کو ابتدائی طور پر 4 مئی کو کیپ ورڈی پہنچنا تھا۔ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عموماً چوہوں کے فضلے یا پیشاب کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور شدید سانس کی بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ انسان سے انسان میں اس کی منتقلی بہت کم ہوتی ہے، لیکن موجودہ صورتحال نے مسافروں اور عملے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔کروز شپ پر تقریباً 170 مسافر، 57 عملے کے ارکان اور چند طبی عملہ موجود تھا، جس کے باعث ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ کے دفتر خارجہ نے بھی صورتحال پر نظر رکھنے اور اپنے شہریوں کی مدد کے لیے اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
کروز شپ پر ہنٹا وائرس کا پھیلاؤ، 3 مسافر ہلاک، عالمی اداروں میں تشویش
2 دن قبل