اسلام آباد( ہیلتھ ڈیسک)سائنس دانوں نے ایک اہم پیش رفت میں ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے دماغ اپنے ہی معاون خلیات کو متحرک کر کے الزائمرز بیماری میں بننے والے نقصان دہ امائلائیڈ پلیکس کو خود صاف کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔بیلر کالج آف میڈیسن کے محققین کی تحقیق کے مطابق دماغ میں موجود ایک قدرتی نظام بعض حالات میں ان زہریلے مادوں کو ختم کرنے اور یادداشت کو محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے، جو الزائمرز کے مریضوں میں متاثر ہو جاتے ہیں۔تحقیق کا مرکز دماغ کے مخصوص معاون خلیات “آسٹروسائٹس” ہیں، جو ستارے کی شکل کے ہوتے ہیں اور دماغی رابطوں کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے پایا کہ ان خلیات کو فعال کر کے بیماری کے دوران جمع ہونے والے زہریلے مواد کو مؤثر طریقے سے کم کیا جا سکتا ہے۔جریدے “نیچر نیورو سائنس” میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ساکس 9 نامی پروٹین کی مقدار میں اضافہ کرنے سے ان خلیات کی صفائی کی صلاحیت میں واضح بہتری آتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ نتائج ایک نئے علاج کی سمت اشارہ کرتے ہیں جس میں دماغ کے قدرتی دفاعی نظام کو مضبوط بنا کر ذہنی کمزوری اور یادداشت کی خرابی کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔
الزائمر کے علاج میں امید کی کرن، دماغ کا قدرتی دفاعی نظام فعال کرنے کا نیا طریقہ دریافت
2 دن قبل