اسلام آباد( ہیلتھ ڈیسک)سائنس دانوں نے ایک نئی اور جدید امیجنگ ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو اینڈومیٹریوسس (Endometriosis) کی تشخیص میں درپیش طویل تاخیر کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے اور مریضوں کو پیچیدہ اور تکلیف دہ طبی مراحل سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔اس نئی تکنیک کے ذریعے ڈاکٹرز جسم کے اندر بننے والی غیر معمولی خون کی نالیوں اور سوزش کو براہِ راست دیکھ سکیں گے، جس سے بیماری کی زیادہ درست اور بروقت تشخیص ممکن ہو جائے گی۔ماہرین کے مطابق برطانیہ میں اس بیماری کی حتمی تشخیص میں اوسطاً 9 سال سے زائد وقت لگ جاتا ہے، جس کی بڑی وجہ علامات کا دیگر بیماریوں، خصوصاً آئی بی ایس (Irritable Bowel Syndrome) سے مشابہ ہونا ہے۔ اس دوران مریضوں کو شدید درد، ماہواری کی پیچیدگیوں اور روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی عام طبی نظام کا حصہ بن جائے تو نہ صرف تشخیص کا وقت کم ہوگا بلکہ لاکھوں متاثرہ خواتین کو بروقت علاج اور بہتر معیارِ زندگی بھی میسر آ سکے گا۔
اینڈومیٹریوسس کی جلد تشخیص میں بڑی پیش رفت، نئی امیجنگ ٹیکنالوجی تیار
2 دن قبل