اسلام آباد( ہیلتھ ڈیسک)ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذہنی طور پر بے بسی اور شکست کا احساس دائمی درد اور طویل بیماریوں کی شدت کو بڑھا سکتا ہے۔محققین کے مطابق وہ افراد جو مسلسل درد یا بیماری کے دوران ذہنی طور پر خود کو کمزور اور بے بس محسوس کرتے ہیں، ان میں تکلیف کی شدت زیادہ محسوس ہوتی ہے اور ان کا معیارِ زندگی بھی مزید متاثر ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو بعض اوقات سماجی اور نفسیاتی طور پر “ذہنی شکست” سے جوڑا جاتا ہے۔تحقیق کے دوران دائمی درد کے شکار 137 بالغ افراد کا دو ہفتوں تک مشاہدہ کیا گیا، جن سے روزانہ تین بار ان کے جذبات، خیالات اور رویوں سے متعلق سوالات کیے گئے۔نتائج طبی جریدے “Pain” میں شائع ہوئے، جن سے ظاہر ہوا کہ جیسے جیسے ذہنی بے بسی کا احساس بڑھتا ہے، ویسے ویسے درد کی شدت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ یہ کیفیت افراد کو سماجی سرگرمیوں اور جسمانی مشقوں سے دور کر دیتی ہے، جس سے ان کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسا خود کو بڑھانے والا منفی چکر ہے جس میں منفی خیالات مزید تکلیف کو جنم دیتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ذہنی بے بسی اور درد کی شدت براہِ راست ایک دوسرے سے جڑی نہیں بلکہ ایک الگ نفسیاتی عمل کے ذریعے اثر انداز ہوتی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 26 فیصد بالغ افراد کسی نہ کسی شکل میں دائمی درد کا شکار ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2040 تک یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
ذہنی بے بسی دائمی درد کو بڑھا سکتی ہے، ماہرین کا اہم انکشاف
2 دن قبل