نیو یارک( ہیلتھ ڈیسک)نیچر نیورو سائنس میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ڈوپامین کے ایک ایسے کردار کا انکشاف ہوا ہے جو الزائمرز بیماری سے جڑی یادداشت کی کمزوری سے متعلق ہے اور اس پر پہلے واضح طور پر روشنی نہیں ڈالی گئی تھی۔تحقیق کے مطابق یادداشت مختلف تجربات کو آپس میں جوڑنے کا عمل ہے، جیسے کسی خوشبو کو کسی جگہ یا کسی آواز کو کسی واقعے سے منسلک کرنا۔ یہ عمل دماغ کے ایک اہم حصے میڈیل ٹیمپورل لوب پر منحصر ہوتا ہے، جسے یادداشت کا مرکزی حصہ بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم الزائمرز بیماری میں اس نظام کی خرابی کے طریقہ کار کو اب تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا تھا۔محققین کی ایک ٹیم، جس کی قیادت یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اروائن اسکول آف میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کئی اگراچی کر رہے تھے، نے اپنی تحقیق میں اینٹورہینل کورٹیکس پر توجہ مرکوز کی، جو یادداشت کے لیے انتہائی اہم اور ہپوکیمپس تک معلومات پہنچانے کا بنیادی راستہ ہے۔پہلے کی گئی تحقیق میں یہ ثابت ہو چکا تھا کہ اس حصے میں یادداشت کی تشکیل کے لیے ڈوپامین ضروری کردار ادا کرتا ہے۔نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے جاننے کی کوشش کی کہ آیا ڈوپامین کے نظام میں خرابی الزائمرز میں یادداشت کی کمزوری کی وجہ بنتی ہے۔ چوہوں پر کیے گئے تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ اینٹورہینل کورٹیکس میں ڈوپامین کی مقدار معمول سے پانچویں حصے سے بھی کم رہ گئی تھی، جس کے باعث دماغی خلیے ان محرکات پر درست ردعمل نہیں دے رہے تھے جنہیں عام حالات میں سیکھا جانا چاہیے تھا۔
ڈوپامین کی کمی الزائمرز میں یادداشت کی خرابی کی بڑی وجہ ہو سکتی ہے:نئی تحقیق میں انکشاف
4 دن قبل