کراچی( ہیلتھ ڈیسک)طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذہنی دباؤ صرف ذہنی کیفیت تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ انسانی جسم کے نظامِ ہاضمہ اور مجموعی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک جاری رہنے والا ذہنی دباؤ جسم میں ایسے ہارمونل تغیرات پیدا کرتا ہے جو آنتوں کی صحت کو متاثر کرتے ہیں اور قوتِ مدافعت کو بھی کمزور کر سکتے ہیں۔ دباؤ کی کیفیت میں دماغ جسم کو ہنگامی حالت میں لے جاتا ہے جس کے باعث ہارمونز کی سطح بڑھ جاتی ہے اور نظامِ ہاضمہ کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق ذہنی دباؤ مفید بیکٹیریا کی مقدار کو کم کر دیتا ہے جو ہاضمے، مدافعت اور ذہنی صحت کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں، جبکہ نقصان دہ بیکٹیریا میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس عدم توازن کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مختلف جسمانی اور ہاضمے کی بیماریاں پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ متوازن غذا، مناسب آرام اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے طریقے اپنانا مجموعی صحت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
ذہنی دباؤ نظامِ ہاضمہ اور قوتِ مدافعت پر منفی اثرات ڈالنے لگا، ماہرین کی تنبیہ
1 ہفتے قبل